آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے

love poetry


آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے
اس کے بعد آئے جو عذاب آئے

بام مینا سے ماہتاب اترے
دست ساقی میں آفتاب آئے

ہر رگ خوں میں پھر چراغاں ہو
سامنے پھر وہ بے نقاب آئے

عمر کے ہر ورق پہ دل کی نظر
تیری مہر و وفا کے باب آئے

کر رہا تھا غم جہاں کا حساب
آج تم یاد بے حساب آئے

نہ گئی تیرے غم کی سرداری
دل میں یوں روز انقلاب آئے

جل اٹھے بزم غیر کے در و بام
جب بھی ہم خانماں خراب آئے

اس طرح اپنی خامشی گونجی
گویا ہر سمت سے جواب آئے

فیضؔ تھی راہ سر بسر منزل
ہم جہاں پہنچے کامیاب آئے

انہیں دیکھنے کی اس لئے جسارت نہیں کرتا

انہیں دیکھنے کی اس لئے جسارت نہیں کرتا


انہیں دیکھنے کی اس لئے جسارت نہیں کرتا


انہیں دیکھنے کی اس لئے جسارت نہیں کرتا
کیونکہ اب اشک ، چشم کی طہارت نہیں کرتا

جب سے دیکھا ہے بچہ کوڑے سے کھانا چنتے
میں کچھ بھی کھانے سے , حقارت نہیں کرتا

ہمارا حاکم جو غریبوں کے خوں پہ نادم ہوتا
توں قاتلوں کے جتھے کی صدارت نہیں کرتا

گر میری آبلہ پائی کا کچھ خیال کرتا وہ
تو سکونِ منزل، سر منزل غارت نہیں کرتا

میں جس شخص کی شہء پہ بے موت مارا گیا
وہ تو میرے مرقد کی بھی زیارت نہیں کرتا

اسے کہنا کہ کوئی اور نیا ڈھونڈ لے گاہک
کہ ساحل اب دردوں کی تجارت نہیں کرتا

Love Poetry

Love Poetry


کاش میں تیرے حسیں ہاتھ کا کنگن ہوتا


کاش میں تیرے حسیں ہاتھ کا کنگن ہوتا
تُو بڑے پیار سے بڑے چاوْ سے بڑے مان کے ساتھ

اپنی نازک سی کلائی میں چڑھاتی مجھ کو
اور بےتابی سے فرقت کے خزاں لمحوں میں

تو کسی سوچ میں ڈوبی جو گھماتی مجھ کو
میں تیرے ہاتھ کی خوشبو سے مہک سا جاتا

جب کبھی موڈ میں آ کر مجھے چوما کرتی
تیرے ہونٹوں کی حدت سے دہک سا جاتا

رات کو جب بھی تُو نیندوں کے سفر پر جاتی
مَرمَریں ہاتھ کا اک تکیہ بنایا کرتی

میں ترے کان سے لگ کر کئی باتیں کرتا
تیری زلفوں کو تیرے گال کو چوما کرتا

جب بھی تو بند قبا کھولنے لگتی جاناں
کاپنی آنکھوں کو ترے حُسن سے خیرہ کرتا

مجھ کو بےتاب سا رکھتا تیری چاہت کا نشہ
میں تری روح کے گلشن میں مہکتا رہتا

میں ترے جسم کے آنگن میں کھنکتا رہتا
کچھ نہیں تو یہی بے نام سا بندھن ہوتا


Love Poetry

Love Poetry


مجھے اپنے ضبط پہ ناز تھا سرِ بزم رات یہ کیا ہوا

مجھے اپنے ضبط پہ ناز تھا سرِ بزم رات یہ کیا ہوا
مری آنکھ کیسے چھلک گئی مجھے رنج ہے یہ برا ہوا

مری زندگی کے چراغ کا یہ مزاج کوئی نیا نہیں
ابھی روشنی ابھی تیرگی، نہ جلا ہوا نہ بجھا ہوا

مجھے جو بھی دشمنِ جاں ملا وہی پختہ کارِ جفا ملا
نہ کسی کی ضرب غلط پڑی، نہ کسی کا تیر خطا ہوا

مجھے آپ کیوں نہ سمجھ سکے کبھی اپنے دل سے بھی پوچھئے
مری داستانِ حیات کا تو ورق ورق ہے کھلا ہو

جو نظر بچا کے گزر گئے مرے سامنے سے ابھی ابھی
یہ مرے ہی شہر کے لوگ تھے مرے گھر سے گھر ہے ملا ہوا

ہمیں اس کا کوئی بھی حق نہیں کہ شریکِ بزمِ خلوص ہوں
نہ ہمارے پاس نقاب ہے نہ کچھ آستیں میں چھپا ہوا

مرے ایک گوشہ فکر میں، میری زندگی سے عزیز تر
مرا ایک ایسا بھی دوست ہے جو کبھی ملا نہ جدا ہوا

مجھے ایک گلی میں پڑا ہوا کسی بدنصیب کا خط ملا
کہیں خونِ دل سے لکھا ہوا، کہیں آنسوؤں سے مٹاہوا

مجھے ہم سفر بھی ملا کوئی تو شکستہ حال مری طرح
کئی منزلوں کو تھکا ہوا، کہیں راستے میں لٹا ہوا

ہمیں اپنے گھر سے چلے ہوئے سرِ راہ عمر گزر گئی
کوئی جستجو کا صلہ ملا، نہ سفر کا حق ہی ادا ہوا


Sad Poetry

Sad Poetry

محبت کا بھرم





محبت کا بھرم ہوتا تو پھر کچھ سوچ کر جاتے
ورنہ زندگی بن کے میرے ہمدم گزر جاتے

تھکے ہارے پرندوں کو جو دیکھا تو خیال آیا
کوئی جو منتظر ہوتا تو ہم بھی اپنے گھر جاتے

میں کھا کر درد کی ٹھوکر ابھی تک حوصلہ مند ہوں
یہ ٹھوکر جو تمہیں لگتی تو تم خود بھی بکھر جاتے

اس تنہائی کا ہم پہ بڑا احسان ہے محسن
نہ دیتی ساتھ یہ اپنا، تو جانے ہم کدھر جاتے